Type something and hit enter

author photo
By On

speech on allama iqbal in urdu language with poetry | iqbal day 9 november

iqbal day speech in urdu
iqbal day speech in urdu

Happy Iqbal Day


یوم اقبال ہر سال 9/ نومبر کو پورے پاکستان میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے یوم پیدائش کو یوم اقبال کے طور پر منایا جاتا ہے۔ علامہ اقبال کی شہرت جہاں مسلمانوں کے موجودہ دور میں مصلحانہ کردار کی تھی وہیں قیام پاکستان میں ایک ممتاز شخصیت ی تھی کیونکہ انہوں نے اپنے خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کی الگ مملکت کا پورا نقشہ پیش کر پاتا اور پھر محمد علی جناح کو جو مستقل طور پراندن کوچ کر گئے تھے خط لکھ کر ہندوستان واپس آنے اور مسلمانوں کی قیادت کرنے کی ترغیب دی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے انتقال پر تعزیتی بیان میں محمد علی جناح نے اعتراف کیا کہ ان کیلئے اقبال ایک رہنماء بھی تھے۔ دوست بھی اور فلسفی بھی تھے جو کسی ایک لمحہ کیلئے بھی متزلزل نہ ہوئے اور چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ بھارت میں علامہ اقبال کو شاعر مشرق، ادیب، مفکر، فلسفی اور مسلمانوں کو جگانے والی شخصیت کے طور پر پیچان جاتا ہے۔ ان کی ولادت کے موقع پر بھارت میں بھی یوم اقبال یا اقبال ڈے کے نام سے انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس موقع کی اہمیت کے پیش نظر نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایوان کارکنان تحریک پاکستان، شاہراہ قائداعظم میں تقریبات یوم اقبال کے سلسلے میں سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا وطالبات کے مابین انعامی مقابلے مصوری بعنوان علامہ محمد اقبال اور علم کی شمع، علامہ محمد اقبال اور شاہین، علامہ محمد اقبال اور قلم “ منعقد کرتے ہیں اور اسی طرح کے مقالے ملک کے دیگر حصوں میں کئی دیگر تنظیموں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس دن اقبال کو یاد کیا جاتا ہے اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اس دن کو اب یوم اردو بھی کہا جانے لگا ہے۔ بینونومبر جہاں اقبال کی شاعری اور ان کے فکر و فن پر پروگراموں کے انعقاد سے عبارت ہے وہیں وہ اردو کے حوالے سے اہل اردو کے رویوں اور اردو سے ان کی محبت کے دعوے کے احتساب کا بھی دین ہے۔ اس دن جہاں ہم اقبال کے ساتھ ساتھ اردو کے تعلق سے بھی گفتگو کرتے ہیں وہیں ہمیں یہ جانتے اور پرکھنے کا بھی موقع ملتا ہے کہ ہم جو اردو سے محبت کے دعوے دار ہیں اردو سے کتنی محبت کرتے ہیں اور ہمارے دعوے میں کتنی صداقت ہے۔



allama iqbal short speech in urdu




یوم اقبال



allama iqbal poetry
allama iqbal poetry
'

iqbal day speech in urdu



علامہ محمد اقبال ولادت و ابتدائی زندگی

علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ "دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ آن اسلام" کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے، جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
علامہ اقبال کے انتقال پر قائداعظم نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ’’مجھے سر محمد اقبال کی وفات کی خبر سن کر سخت رنج ہوا۔ وہ عالمی شہرت کے ایک نہایت ممتاز شاعر تھے۔ ان کی شہرت اور انکے کام ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ملک اور مسلمانوں کی انہوں نے اتنی زیاده خدمات انجام دی ہیں کہ انکے ریکارڈ کا مقابلہ عظیم ترین ہندوستانی کے ریکارڈ سے کیا جا سکتا ہے۔ ابھی حال ہی تک وہ پنجاب کی صوبائی مسلم لیگ کے صدر تھے جبکہ غیر متوقع علالت نے انہیں استعفی پر مجبور کر دیا۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی پالیسی اور پروگرام کے حامی تھے۔ میرے لئے وہ ایک رہنما بھی تھے، دوست بھی اور فلسفی بھی۔ تاریک ترین المحوں میں جن سے مسلم لیگ کو گزرنا پڑا۔ وہ چٹان کی طرح قائم رہے اور ایک المحے کیلئے بھی متزلزل نہیں ہوئے اور اسی کا نتیجہ تھا کہ صرف تین دن قبل انہوں نے اس کامل اتحاد کا ذکر سنا ہو گا جو کلکتہ میں پنجاب کے مسلم قائدین کے مابین ہو گیا اور آج میں فخر و مباہات کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مسلمانان پنجاب مکمل طور پر مسلم لیگ کے ساتھ ہیں اور اسکے جھنڈے تلے آ چکے ہیں جو يقينأ سر محمد اقبال کیلئے عظیم ترین اطمینا


ن کا واقعہ تھا۔ اس مفارقت میں میری نہایت مخلصانہ اور گہری ہمدردیاں انکے خاندان کے ساتھ ہیں۔ اس نازک وقت میں ہندوستان کو اور خصوصا مسلمانوں کو ایک عظیم نقصان پہنچا ہے۔
allama iqbal day poetry
allama iqbal day poetry



علامہ اقبال کی زندگی ہی میں ہندوستان بھر میں ’’یوم اقبال‘‘ منایا گیا۔ لاہور میں انٹرکالجیٹ مسلم برادر ہڈ کے زیراہتمام 9جنوری 1938ء کو یوم اقبال منانے کا اعلان کیا گیا۔ 5دسمبر1937ء کو پنجاب کے وزیراعظم سر سکندر حیات نے اس تقریب کیلئے اپنے پیغام میں کہا ’’یوم اقبال کو ایک مقدس قومی تقریب کے طور پر منائے جانے پر ہر ہندوستانی کو بالعموم اور ہر پنجابی کو بالخصوص سچے دل سے خوش ہونا چاہئے۔ میری دلی تمنا ہے کہ اس یادگار تہوار کی مسرتیں جو ایشیا کے نامور فلسفی اور عظیم المرتبت شاعرکے نام سے منسوب ہے صرف ہندوستان تک محدود نہ رہیں بلکہ تمام مشرقی ممالک ان میں شریک ہوں ہمارا فرض ہے کہ اس تقریب کو اس متانت سنجیدگی اور وقار سے منائیں جس سے ایک طرف تو دنیا پر اقبال کی عظمت اور اسکی شاعری کی حقیقی قدر و منزلت ظاہر ہو جائے اور دوسری طرف یہ بھی واضح ہو کہ ایشیاء اپنے اس فرزند جليل کے ادبی کارناموں کی قدر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ عرصہ دراز کی گراں خوابی کے بعد اگر آج ہمیں مسلمانوں میں بیداری کے آثار نظر آتے ہیں تو یہ سب کچھ اقبال کی پرجوش آواز کا اثر ہے۔ ادھر ہندوستان کے باشندوں میں بھی جو تڑپ اور بلند آگہی پیدا ہو رہی ہے وہ بھی اس نابغہ عظیم کی مساعی کی شرمنده احسان ہے لہذا ہر ہندوستانی کا فرض ہے کہ یوم اقبال کو ایک مقدس فریضہ سمجھ کر اس میں سرگرمی سے حصہ لے۔ تمام مسجدوں اور مندروں میں اقبال کی صحت اور درازی عمر کیلئے دعائیں مانگی جائیں۔ خدائے تعالی انہیں عرصہ دراز تک سلامت رکھے تاکہ وہ اپنی قوم اور ملک کی خدمت کر سکیں۔



allama iqbal poetry in urdu for pakistan
allama iqbal poetry in urdu for pakistan




آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار دیکھ
You have come into the world like a spark, beware. Lest your ephemeral life may end suddenly, beware.

 مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ Granted that I am not worthy of your Sight; You should look at my zeal, and look at my perseverance.

کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری اگر
ہر ره گزر میں نقش کف پائے یار دیکھ

allama iqbal poetry in urdu for youth
allama iqbal poetry in urdu for youth


iqbal day 9 november

بزم جہاں میں میں بھی ہوں اے شمع! دردمند 

فریاد در گرہ صفت دانہ سپند 

allama iqbal poetry for students in english
allama iqbal poetry for students in english




دی عشق نے حرارت سوز دروں تجھے 

اور گل فروش اشک شفق گوں کیا مجھے 


allama iqbal poetry in urdu sms
allama iqbal poetry in urdu sms



ہو شمع بزم عیش کہ شمع مزار تو 

ہر حال اشک غم سے رہی ہمکنار تو 


short and easy essay on allama iqbal in urdu

یک بیں تری نظر صفت عاشقان راز 

میری نگاہ مایہ آشوب امتیاز 


allama iqbal famous poetry in urdu
allama iqbal famous poetry in urdu



کعبے میں ، بت کدے میں ہے یکساں تری ضیا 

میں امتیاز دیر و حرم میں پھنسا ہوا 



ہے شان آہ کی ترے دود سیاہ میں 

پوشیدہ کوئی دل ہے تری جلوہ گاہ میں؟ 



جلتی ہے تو کہ برق تجلی سے دور ہے 

بے درد تیرے سوز کو سمجھے کہ نور ہے 



تو جل رہی ہے اور تجھے کچھ خبر نہیں 



بینا ہے اور سوز دروں پر نظر نہیں 

allama iqbal poetry in urdu love
allama iqbal poetry in urdu love



میں جوش اضطراب سے سیماب وار بھی 

آگاہ اضطراب دل بے قرار بھی 



تھا یہ بھی کوئی ناز کسی بے نیاز کا 

احساس دے دیا مجھے اپنے گداز کا 



یہ آگہی مری مجھے رکھتی ہے بے قرار 

خوابیدہ اس شرر میں ہیں آتش کدے ہزار 



یہ امتیاز رفعت و پستی اسی سے ہے 

گل میں مہک ، شراب میں مستی اسی سے ہے 



بستان و بلبل و گل و بو ہے یہ آگہی 

اصل کشاکش من و تو ہے یہ آگہی 



صبح ازل جو حسن ہوا دلستان عشق 

آواز 'کن' ہوئی تپش آموز جان عشق 



یہ حکم تھا کہ گلشن 'کن' کی بہار دیکھ 

ایک آنکھ لے کے خواب پریشاں ہزار دیکھ 



مجھ سے خبر نہ پوچھ حجاب وجود کی 

شام فراق صبح تھی میری نمود کی 


allama iqbal ki zindagi k waqiat

وہ دن گئے کہ قید سے میں آشنا نہ تھا 

زیب درخت طور مرا آشیانہ تھا 



قیدی ہوں اور قفس کو چمن جانتا ہوں میں 

غربت کے غم کدے کو وطن جانتا ہوں میں 



یاد دطن فسردگی بے سبب بنی 

شوق نظر کبھی ، کبھی ذوق طلب بنی 



اے شمع! انتہائے فریب خیال دیکھ 

مسجود ساکنان فلک کا مآل دیکھ 





مضموں فراق کا ہوں ، ثریا نشاں ہوں میں 

آہنگ طبع ناظم کون و مکاں ہوں میں 



باندھا مجھے جو اس نے تو چاہی مری نمود 

تحریر کر دیا سر دیوان ہست و بود 



گوہر کو مشت خاک میں رہنا پسند ہے 

بندش اگرچہ سست ہے ، مضموں بلند ہے 


چشم غلط نگر کا یہ سارا قصور ہے 

عالم ظہور جلوہ ذوق شعور ہے 



یہ سلسلہ زمان و مکاں کا ، کمند ہے 

طوق گلوئے حسن تماشا پسند ہے 



منزل کا اشتیاق ہے ، گم کردہ راہ ہوں 

اے شمع ! میں اسیر فریب نگاہ ہوں 

allama iqbal islamic shayari
allama iqbal islamic shayari




صیاد آپ ، حلقہ دام ستم بھی آپ 

بام حرم بھی ، طائر بام حرم بھی آپ! 



میں حسن ہوں کہ عشق سراپا گداز ہوں 

کھلتا نہیں کہ ناز ہوں میں یا نیاز ہوں 



ہاں ، آشنائے لب ہو نہ راز کہن کہیں 

پھر چھڑ نہ جائے قصہ دار و رسن کہیں 

allama iqbal poetry in urdu for students pdf
allama iqbal poetry in urdu for students pdf

علامه اقبال کا پیغام بچوں کے نام ! | انسان اپنے نام سے بھی اچھے کام سے پہچانا جاتا هے ملی حسین ::

پیارے ہوں ! نا مہ اقبال پاکستان ہی کے ہیں اسلام کے شاعر تھے ۔ انہوں نے جو کچھ کیا اسلام اور مسلمانوں کی سر باندی اور اتحاد کے لئے کیا اپنی قوم کے بچوں سے علامہ اقبال کو بہت پیار اوہ بچوں کو قوم کے مستقبل کا معمار شمار کر چکے تھے ۔ علامہ اقبال کی امیدوں پر پورا اترنے کے لئے ان کی تعلیمات پر عمل کر یں ۔ حضرت علامہ محمد اقبال کی زندگی اور مقصد ) حضرت علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں شیخ نورثہ
کے گھر پیدا ہوئے جو شعیہ کی برہمن نسل سے تعلق رکھتے تھے اور مسلمان ہو کر ہجرت کر کے سیالکوٹ آگئے تھے۔ آپ کی والدہ امام بی بی نے آپ کی تربیت اور پرورش سے آپ کے اندر معنویت بھر دی تھی ۔ پیارے بچوں نام طور پر حضرت علامہ اقبال کو صر ف ایک شاعر ہی سمجھا جاتا ہے یا آپ ایک اعلی عام بانی شخصیت تھے۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز مدرسہ سے ہوا اور بعد میں انگریزی اور مروہ علوم کی تعلیم کے لئے کاچ مشن سکول میں داخل ہوئے عظیم دانشمند اور نام سید میر حسن سے بھی کسب فیض کیا۔ ابتدائی عمر سے ہی شاعری ذوق کی بدولت جلد اشعار کہنا شروع کر دیئے ۔ ایم اے کرنے کے بعد اوریل کا مچایا ہور کے پروفیسر مقرر ہوئے ۔ اور پھر دنیا کی دو مشہور اور اعلی تعلیمی ڈگریاں حاصل کیں لیکن آپ نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور جرمنی سے قانہ میں ڈاکٹریٹ (پی اچ دی ) کی ڈگری حاصل کی ۔ آپ اپنی بے شمار خوبیوں کی بنا پر لاہور کے عظیم تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ کے پروفیسر مقرر ہوئے ۔ حضرت علامہ محمد اقبال نے کئی کتابیں تصنیف کیں جن میں اردو شاعری، فارسی شاعری اردو اور انگریزی کی کتا ہمیں بھی شامل ہیں ۔ یہ بات آپ سب کے لئے باعث حیرت ہوئی کہ جس شخصیت کو ہم صرف شاعر کہتے ہیں ان کی پہلی کتاب معاشیات کے دقیق مطالعہ کا نچو تھی جس کا نام علم الاقتماد تھا۔ آپ کی زندگی انتہائی سادہ بیان آپ کی فکر انتہائی باندی ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے نیم زمین اور انہیں پسند تھے۔
للہ کے بعد آپ حضرت محمدﷺ کے حد در بہ مداح تھے۔ اسلام سے انتہائی عقیدت کی بنا ء پر آپ کی شاعری میں عربی اور قرآنی استعارے کثرت سے نظر آتے ہیں ۔ آپ نے ہمراہ تھے اور عمدہ موضوع کوجس سے اصلاح کا پہلو جانتا ہو اپنی فلموں کا موضوع بنایا۔ مثلا آپ نے طرابلس کی لڑائی میں شریک ہونے والی تھی لڑکی جو کہ مبا بد ین کو پانی پاتے ہوئے شہید ہوئی ہیں اس کے بارے میں فرمایا


فاطمه و ابرو بهت مرحوم

ذرہ ذرہ تیری مشت خاک کا معصوم ہے علامہ اقبال کا پسند یہ پرندہ شاہین تھا جسے آپ نے اپنی شاعری میں کثرت سے استعمال کیا کیونکہ وہ کچھ خاص منمات کا حامل ہوتا ہے ۔ مثلا اونچا اڑتا ہے، کسی کا جھوٹا نہیں کھاتا ، اپنا مستقل گھر نہیں بناتا ، دور بین ، خود دار اور غیرت مند ہوتا ہے ۔ آپ کی شاعری سے یہ خواہش ظاہر ہوتی ہے کہ مند را به بالا نمات ہمارے بچوں اور نوجوانوں میں بھی پائی جانی چاہیں منایا۔
شاہیں بھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا پر دم ہے اگر تو وہیں خطره او
تیرے سامنے آسان اور بھی ہیں جس پہ یہ بجھتے ہیں کہ علامہ اقبال نے سوتے ہوئے ایک خواب دیکھا تھا کہ پاکستان بن رہا ہے۔ حقیقت یہ
ہے کہ آپ نے بہت پہلے اپنی وی انٹری کے باعث یہ ادراک کر لیا تھا کہ مسلمانوں کی ایک نیند مملکت ہونی پا ہے۔ اپنے اس فاسفہ کا جب آپ نے اظہار فرمایا تو اسے ایک شاعر کا خواب پاکستان کہا گیا جسے حقیقت میں بدلنے کے لئے اللہ تعان نے ہمیں شدیم تا ند حضرت محمد علی جناح سے نوازا۔ حضرت نا مہ اقبال کی پوری زندکی، ان کے عملی کام اور شاعری ہمارے لئے بہت سے سبق آموز پہلو رہتی ہے ۔ مثلا جب آپ جرمنی میں ڈاکٹریٹ کر رہے تھے اس وقت آپ کے فرزند جس ڈاکٹر جاوید اقبال جو ابھی پے تھے انہوں نے آپ کو جمنی خود که ما اور ستارا نے کی فرمائش کی، جس کے جواب میں علامہ اقبال نے بی شعر کا
تری دعا ہے کہ ہو تی آرزو پوری
میری ونا ہے تری آرزو بدل جائے اور بعد میں پورا جا و به نام تحریر کیا۔ آپ نے اپنی فکر اور سوچ کی آبیاری کے لئے قرآن کا نسخہ تجویز کی





iqbal day speech in urdu

اقبال کا یوم پیدائش

فطرت کو خرد کے روبرو کر
تسخیر مقام رنگ و بو کر
تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے
ھوئی ہوئی شے کی جستجو کر
تاروں کی فضا ہے بیکرا
عریاں ہیں ترے چمن کی حوریں چاک گل و لالہ کو رفوگر بے ذوق نہیں اگر چہ فطرت جو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر علامہ اقبال انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں علاج درد میں بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں جو تھے چھالوں میں کانٹے نوک سوزن سے نکالے ہیں چھلا پھولا رہے یا رب چمن میری امیدوں کا جگر کا خون دے دے کر یہ بوئے میں نے پالے ہیں رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی نرالا عشق ہے میرا نرالے میرے نالے ہیں نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں بر باد رہنے کی نشین سیکڑ وں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں نہیں بیگانگی اچھی رفیق راه منزل سے شہر جا اے شرر ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہیں امید نور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادھے بھولے بھالے ہیں مرے اشعار اے اقبال کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو مرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ دردانگیز نالے ہیں






میں محوں کو وقت کی پکار دیتا ہوں اسی گن میں کئی شامیں گزار دیتا ہوں میں یونہی ہر ایک سے بے رايط نہیں ملتا ہر شخص کو اس کا معیار دیتا ہوں میں غم کی کشتی کو ڈبونا نہیں چاہتا بوجھ بڑھ جائے تو کچھ اتار دیتا ہوں خوشیاں کوئی مانگے تو مفت میں دیتا ہوں غم مانگے کوئی تو ادھار دیتا ہوں بدلہ لینا میری فطرت میں نہیں ہے محسن کوئی مرزائیں دے تو بدلے میں بہار دیتا ہوں محسن نقوی)


speech on allama iqbal in urdu language with poetry

تحریر: فاران خان صبح آنکھ کھلی اور تاریخ دیکھی تو یاد آیا کہ آج تو علامہ اقبال کا یوم پیدائش
ہے۔ لیکن پھر اس خیال نے مجھے نمکین کر دیا کہ ابھی تک یہ قوم لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری پر ہی پھنسی ہوئی ہے۔ اس سے آگے تو کسی
نے اقبال کو سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی تو خوشی کس بات کی منائیں ، اس بات کی علامہ اقبال نے جو پیغام ہمارے لئے چھوڑا اس پر آج تک ہم نے عمل تو دور کی بات سمجھنے کی کو شش ہی نہیں کی کیا ایک برائے نام قومی شاعر کی پیدائش کی جن کو سال میں دو دن ہی یاد کیا جاتا اور وہ بھی چند نغموں اور بچوں کی نظموں کی صورت میں۔ کیا علامہ اقبال حقیقی طور پر ہمارے قومی شاعر ہیں؟ جب ہم سے کوئی پوچھے کہ آپ کا قومی شاعر کون ہے تو ہم فخر


سے علامہ اقبال کا نام بتا دیں گے لیکن اگر کسی نے یہ پوچھ لیا کہ علامہ اقبال کا خودی کا فلسفہ بیان کریں تو ہم شرمندگی سے ان سے نظر میں ملانے کے قابل نہ رہیں۔ یہ اس قوم کے ایک لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔